Posts

رنگ روڈ واقعہ

     اے میرے صاحب لاہور رنگ روڈ پر عورت کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اور پھر لاہور پولیس کے آفیسر نے جو بیان دیا اس پرہرشخص نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پولیس افسر کے بیان کی مذمت کی ہے مگر وفاقی اور صوبائی حکومت پولیس افسر کے بیان کے دفاع میں ایڑی سے چوٹی کا زور لگا رہی ہے اور بضد ہے کہ پولیس افسر کے بیان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے پوری قوم کو چاہیئے کہ وہ پولیس افسر کے بیان پر انہیں سیلوٹ کر ے مگر حقیقت یہ ہے کہ جس حکومت یا ادارے نے کسی ایسے المناک واقعے کے بعد اس طرح کے بیانات دئیے ہیں جلد یا بدیر ایسی حکومت کو.ہمیشہ سیلوٹ نہیں جوتے یعنی جوت پڑے ہیں 

سرائیکی غزل

 اے میرے صاحب سجن ناراض راہندے کیا کریجیے ودا غیراں اچ باہنداے کیا کر یجیے نہ ساکوں دل دے وچ خس جھاہ دا ڈینداے نہ ساڈے دل توں لاہنداے کیا کریجے زمیں کیتے ہے بارش بہوں ضروری مگر کوٹھا جو ڈھانداے کیا کریجے..،؟ دماغ اھداے جو بندہ ٹھیک کوئی نی مگر دل کو جوبھانداے کیا کریجے........ ؟

عطاء اللہ عیسٰی خیلوی 2

 اے میرے صاحب 2 حالانکہ میں نے 1988 میں ہی اندازہ لگا لیا تھا اللہ تعالیٰ  عطاء اللہ عیسٰی خیلوی صاحب پہ بہت مہربان ہے اور انہیں ایک گلوکار ہی نہیں اداکاری کے فن سے بھی نوازا ہے یہ مجھے کب اندازہ ہوا اس کی تفصیل پھر کبھی جو دلچسپ بھی اور پر لطف بھی سو ان کے اندر ایک دلیپ کمار نہیں تو محمد علی مرحوم تو بہرحال تھے اور ہیں بھی میں نے کئی موقعوں پر سماجی ثقافتی اور سیاسی معاملات میں ان کے اندر کے ادکار کو باہر نکل نکل کے چوکڑیاں بھرتے دیکھا ہے موصوف پنجابی فلم ھیر رانجھا کی ھیر یعنی فردوس کے بہت مداح ہیں ھیر کے کردار کے حوالے سے ان کی بہت تعریف کرتے تھے مگر رانجھے یعنی اعجاز درانی کے بہت خلاف تھے اور کہا کرتے تھے انہوں نے رانجھے کا کردار اچھے سے نہیں نبھایا اور پھر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ فرماتے اگر اعجاز کی جگہ ہوتا میں فردوس کو لگ پتا جاتا....... قدرتی کی فیاضی دیکھیے ایک فلم ساز نے انہیں ایک گانے کی آفر کی اور موصوف گانے اور گانا پکچرایز کرانے پہ آمادہ ہوگئے فلم ریلیز ہوئی تو لوگوں نے تین تین بار گانا چلانے کی فرمایش کی بعض سینماؤں میں تو فلم گانے سے شروع ہوئی اور گانے پہ ختم ہ...

شفا اللہ خان روکھڑی کی کہانی

 https://youtu.be/hgoTHl2-9y0

عطاء اللہ عیسٰی خیلوی

     1  اے میرے صاحب یہ میری دوسری عیدالفطر تھی  پہلی بار 1992 میں میں نے لاہور میں عید کی اس بار مختلف ذاتی وجوہات کی بنا پر میانوالی نہ جا سکا اور لاہور میں عید الفطر منانے کیلئے رک گیا پہلی بار میں عطاء اللہ عیسٰی خیلوی صاحب کی گفتگو کے چکر میں لاہور میں پھنس گیا اور پھر مت پوچھیے کہ کیا ہوا تین دن کیسے گزرے یہ داستان دلچسپ بھی اور پردیس کی عید کا دکھ بھی جو آپ اجازت دیں گے تو سنا بھی دونگا پیسے تھوڑی لگتے ہیں اب لاہور میں اچھے خاصے دوست ہیں پھر  دو بیٹیاں بھی لاہور میں رہتی ہیں مگر کرونا وائرس کی وجہ سے یہ عید بھی بوریت کے ساتھ گزری کل صبح نماز عید کیلئے نکلے تو دوروں دوروں چھبیاں والا ماحول تھا سو فوراً گھر کی راہ لی کندیاں سے عید کے حوالے سے بتایا گیا ہے مسجد میں نمازیوں کی تعداد پہلے سے زیادہ تھی اور بھائی نے بتایا کہ پہلے تو لوگ عید ملتے ہوے تین بار ادھر پھر ادھر پھر ادھر گردن گھماتے تھے مگر اب کی بار پہلے دائیں پھر بائیں پھر دائیں پھر بائیں یعنی چار بار گردن گھماتے رہے بعض لوگ تو پانچ بار بھی یہ عمل دھراتے رہے 92 میں یوں ہوا کہ میں کمرے میں داخل ہو...

روف کلاسرا

Image
 اے میرے صاحب کتاب پڑھے بغیر کتاب پہ گفتگو کا فن بہت سے لوگوں کو آتا ہے ایک بار ہم بھی ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک ہونے کیلئے جونہی ہال میں داخل ہوئے تو سٹیج سیکرٹری کے ذھن میں نجانے کیا شرارت سوجھی کہ اس نے جھٹ سے ہمیں گفتگو کے لیے بلا لیا صاحب کتاب چونکہ شاعر تھے تو ہم نے  شاعری کی کتاب سمجھتے ہوئے گفتگو کرتے ہوئے کہا صاحب کتاب چونکہ ایک اعلی پائے کے شاعر ہیں اور بلاشبہ ان کا مجموعہ کلام لمحہ موجود میں ایک منفرد اور اعلی شعری اسلوب کا انوکھا شعری مجموعہ ہے شعر اودب کی دنیا کو جان لینا چاہیے کہ اب غالب کے بعد غالب پہ بھی غالب ایک شاعر ہمارے درمیان موجود ہے اور اگر یہ غالب کے عہد میں ہوتے تو یقیناً غالب ان کے ہاں مٹکے بھرتے اس فقرے پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا مگر سٹیج سیکرٹری نے ہمارے کان میں آکر کہا جناب کتاب شاعری کی نہیں خواتین کیلئے میک اپ کے مشوروں کی ہے بس اس کے بعد پھر تقریب سے تو گئے ہی گئے ساتھ دوست سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے روف کلاسرا ہمارے دوست ہیں ان کی کتاب گمنام گاوں کا آخری مزار کے بہت چرچے ہیں بہت سے لوگ کتاب پر تبصرے کر رہے ہیں اور روف کلاسرا کی اس کتاب کی ا...