عطاء اللہ عیسٰی خیلوی 2
اے میرے صاحب 2
حالانکہ میں نے 1988 میں ہی اندازہ لگا لیا تھا اللہ تعالیٰ عطاء اللہ عیسٰی خیلوی صاحب پہ بہت مہربان ہے اور انہیں ایک گلوکار ہی نہیں اداکاری کے فن سے بھی نوازا ہے یہ مجھے کب اندازہ ہوا اس کی تفصیل پھر کبھی جو دلچسپ بھی اور پر لطف بھی سو ان کے اندر ایک دلیپ کمار نہیں تو محمد علی مرحوم تو بہرحال تھے اور ہیں بھی میں نے کئی موقعوں پر سماجی ثقافتی اور سیاسی معاملات میں ان کے اندر کے ادکار کو باہر نکل نکل کے چوکڑیاں بھرتے دیکھا ہے موصوف پنجابی فلم ھیر رانجھا کی ھیر یعنی فردوس کے بہت مداح ہیں ھیر کے کردار کے حوالے سے ان کی بہت تعریف کرتے تھے مگر رانجھے یعنی اعجاز درانی کے بہت خلاف تھے اور کہا کرتے تھے انہوں نے رانجھے کا کردار اچھے سے نہیں نبھایا اور پھر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ فرماتے اگر اعجاز کی جگہ ہوتا میں فردوس کو لگ پتا جاتا.......
قدرتی کی فیاضی دیکھیے ایک فلم ساز نے انہیں ایک گانے کی آفر کی اور موصوف گانے اور گانا پکچرایز کرانے پہ آمادہ ہوگئے فلم ریلیز ہوئی تو لوگوں نے تین تین بار گانا چلانے کی فرمایش کی بعض سینماؤں میں تو فلم گانے سے شروع ہوئی اور گانے پہ ختم ہوگئی
ہدایت کار کا اصرار تھا کہ فلم میں آپ کی اداکاری کو پسند کیا گیا مگر میرا کہنا تھا کہ فلم میں آپ نے اداکاری کی کہاں ہے آپ تو سٹیج پر بیٹھے گا رہے ہیں اداکاری کہاں کر رہے ہیں بہرحال گڑبڑ اس وقت ہوئی جب ہدایت کار نے ان کے کاندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا
آپ نے راجکپور کو پیچھے چھوڑ دیا ہے بچاری بازغہ بھابھی اور میں نے بہت سمجھایا کہ یہ آپ کے بس کا کام نہیں
.. سٹ گھت خیال نکمے........
مگر جوابا آپ نے تین فلموں کا معاہدہ کر لیا اور ہم دونوں کو یہ تسلی بخش جواب دیا کہ
آپ تو میری اداکاری سے جلتے ہو......
یہاں سے ایک جمنپ لگاتے ہیں کیونکہ اگر اس بات کو اور اس سے جڑے معاملات نقصانات اور لطائف کو بیان کرنے کا سلسلہ چل نکلا تو پھر مہینوں گزر جائیں گے اور جو واقعہ شروع کیا ہے وہ کہیں غائب ہوجاے گا
ٹیلی فون اماں مرحومہ کا تھا جو عطاء اللہ عیسٰی خیلوی صاحب کو عید پہ عیسٰی خیل آنے کا کہہ رہی تھیں میرے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے بھی عطاء صاحب ٹیلی فون پر ملکہ جزبات بہار بنے بیٹھے تھے مجھ پہ نظر پڑی تو ان کے جذباتی نوحے آسمان کو چھونے لگے اور ایسی اداکاری فرمائی کہ میں بھی روہنسا سا ہوگیا فون بند ہو چکا تھا عطاء صاحب نے اپنا سر اپنے ہی سینہ پہ جھکا لیا میں نے سر اٹھایا تو فرمایا
کیا تم عید کے پہلے دن قربانی دے سکتے میں نے کہا یہ عید الفطر ہے قربانی نہیں
فرمانے لگے میری بات سمجھو میں چاند رات کو عیسی خیل چلا جاونگا اور صبح عید پڑھ کے واپس اجاو نگا تم دوسرے دن گاوں چلے جانا
ابھی میں ہاں یا ناں بھی نہ کر پایا تھا کہ بھابھی بازغہ سے کہا
جانی بالاں دے کپڑے سنبھال افضل بھرا اتھائیں عید کریسی
میں نے بات سنی اور کہا خدا کے بندے.........
نوٹ کل کی پوسٹ پہ سجاد جہانیہ صاحب نے واٹسپ پہ ایسا تبصرہ فرمایا کہ اف اللہ ظالم نے حد کردی ہے 😀
Comments
Post a Comment