عطاء اللہ عیسٰی خیلوی
1 اے میرے صاحب
یہ میری دوسری عیدالفطر تھی پہلی بار 1992 میں میں نے لاہور میں عید کی اس بار مختلف ذاتی وجوہات کی بنا پر میانوالی نہ جا سکا اور لاہور میں عید الفطر منانے کیلئے رک گیا پہلی بار میں عطاء اللہ عیسٰی خیلوی صاحب کی گفتگو کے چکر میں لاہور میں پھنس گیا اور پھر مت پوچھیے کہ کیا ہوا تین دن کیسے گزرے یہ داستان دلچسپ بھی اور پردیس کی عید کا دکھ بھی جو آپ اجازت دیں گے تو سنا بھی دونگا پیسے تھوڑی لگتے ہیں
اب لاہور میں اچھے خاصے دوست ہیں پھر دو بیٹیاں بھی لاہور میں رہتی ہیں مگر کرونا وائرس کی وجہ سے یہ عید بھی بوریت کے ساتھ گزری کل صبح نماز عید کیلئے نکلے تو
دوروں دوروں چھبیاں والا ماحول تھا سو فوراً گھر کی راہ لی
کندیاں سے عید کے حوالے سے بتایا گیا ہے مسجد میں نمازیوں کی تعداد پہلے سے زیادہ تھی اور بھائی نے بتایا کہ پہلے تو لوگ عید ملتے ہوے تین بار ادھر پھر ادھر پھر ادھر گردن گھماتے تھے مگر اب کی بار پہلے دائیں پھر بائیں پھر دائیں پھر بائیں یعنی چار بار گردن گھماتے رہے بعض لوگ تو پانچ بار بھی یہ عمل دھراتے رہے
92 میں یوں ہوا کہ میں کمرے میں داخل ہوا تو عطاء اللہ عیسٰی خیلوی صاحب ٹیلی فون پر اچھے خاصے جزباتی ہوے بیٹھے تھے مجھے دیکھتے ہی اپنی روایتی استادی چالاکی یا پھر سادگی کا بہت موثر انداز اپناتے ہوے مجھے بھی بلاوجہ جذباتی کر دیا حالانکہ..................
Comments
Post a Comment