اے میرے صاحب آج میرے خان اعظم کی پہلی جمعرات ہے.......... ان کیلئے دعائے مغفرت کی درخواست ہے استاد محترم فلاں فلاں گیتوں کی دوبارہ ویڈیوز بنانی ہے مگر وہ تو ریلیز ہوچکے ہیں..... ہا ہا ہا ہا آپ ٹھیک کہتے تھے ان کی ویڈیو دوبارہ بنانی ہے اس وقت میں نے جلدبازی کی اچھا وہ وہ گیت تیار رکھنا اور پھر ہارمونیم پکڑ کے فون پر ہی دھن کی ریہرسل شروع کر دینا بارشاں اچ رنگی ہوئی شام او یار خان اعظم ایسے نہیں ایسے میں نے جوابا گانا تو اس نے کہنا توبہ آپ کی دھن بھی تو مشکل ہوتی ہے نا گاتے ہوئے لگ پتا جاتا ہے زرا پھر سے سنانا میں نے دوبارہ سنانا تو انہوں نے رفاقت کو آواز لگانی چھوڑ سارے کم استاد محترم کی استای ٹیپ کر یہ ایک معمول تھا ایک دو روز وقفے کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو اور ریہرسل جاری رہتی....... ذھین آدمی تھا کہنے لگا آج آواز میں دم نظر نہیں ارہا استاد محترم کیا معاملہ ہے....... یار تمہاری بھابھی بیمار ہے........ او ہو کیا مسئلہ ہے.......... یہ مسئلہ ہے استاد محترم فکر نہ کریں میری بہن کا علاج ڈٹ کے کرنا ہے کسی بات کا چنتا نہیں کرنا اکا جان لا ڈساں بھرجای تے پھر اس کے بعد گفتگو کا آغاز ہمیشہ...
اے میرے صاحب کتاب پڑھے بغیر کتاب پہ گفتگو کا فن بہت سے لوگوں کو آتا ہے ایک بار ہم بھی ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک ہونے کیلئے جونہی ہال میں داخل ہوئے تو سٹیج سیکرٹری کے ذھن میں نجانے کیا شرارت سوجھی کہ اس نے جھٹ سے ہمیں گفتگو کے لیے بلا لیا صاحب کتاب چونکہ شاعر تھے تو ہم نے شاعری کی کتاب سمجھتے ہوئے گفتگو کرتے ہوئے کہا صاحب کتاب چونکہ ایک اعلی پائے کے شاعر ہیں اور بلاشبہ ان کا مجموعہ کلام لمحہ موجود میں ایک منفرد اور اعلی شعری اسلوب کا انوکھا شعری مجموعہ ہے شعر اودب کی دنیا کو جان لینا چاہیے کہ اب غالب کے بعد غالب پہ بھی غالب ایک شاعر ہمارے درمیان موجود ہے اور اگر یہ غالب کے عہد میں ہوتے تو یقیناً غالب ان کے ہاں مٹکے بھرتے اس فقرے پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا مگر سٹیج سیکرٹری نے ہمارے کان میں آکر کہا جناب کتاب شاعری کی نہیں خواتین کیلئے میک اپ کے مشوروں کی ہے بس اس کے بعد پھر تقریب سے تو گئے ہی گئے ساتھ دوست سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے روف کلاسرا ہمارے دوست ہیں ان کی کتاب گمنام گاوں کا آخری مزار کے بہت چرچے ہیں بہت سے لوگ کتاب پر تبصرے کر رہے ہیں اور روف کلاسرا کی اس کتاب کی ا...
Comments
Post a Comment