اے میرے صاحب. 1

میانوالی میں ماڑی نام کے دوشہر ہیں ماڑی انڈس اور پرانی ماڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ لفظ ماڑی دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسے یہ ایک لوک مصرعہ ہے کہ


قسمت ماڑی گلے سجنڑاں تے کیہڑے نی 


یعنی جب میرے نصیب ہی برے تھے تو پھر محبوب سے کیا شکوہ یہاں لفظ ماڑی برے نصیب کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے مگر ایک دوسرے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے 


اچی ماڑی تے ڈدھ پئ رڑکاں یہاں ماڑی اونچی حویلی کے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے  پرانی ماڑی کسی زمانے میں ہندوؤں کیلے اہم مقام رہا ہے ایک متبرک شہر کے طور پر اس کی اہمیت رہی ہے اب بھی اس زمانے کے کچھ آثارِ باقی ہیں جیسے پہاڑ کے اوپر ایک مندر اور شمشان گھاٹ کے آثارِ پرانی ماڑی دریائے سندھ کے کنارے ایک ایسے مقام پر ہے جہاں سے اس کے پھیلاو میں اضافہ ہوجاتا ہے تھوڑا پیچھے پہاڑوں کا سینہ چیرتے ہوے پرانی ماڑی کے سامنے اپنا سینہ چوڑا کرتے ہوئے آگے کالا باغ سے ہوتا ہوا چشمہ بیراج اور پھر سندھ کی جانب نکل جاتا ہے اس شہر کے حوالے سے میری جان پہچان تو پہلے سے تھی میرے ایک چچا یہاں بیاہے ہوے تھے جب میں پہلی بار یہاں آیا مگر اس وقت بہت چھوٹا تھا لیکن اس شہر سے تفصیلی تعارف ڈرامہ سیریل نمک کی ریکارڈنگ کے دوران ہوا اور شہر کے حوالے سے عجیب وغریب واقعات سننے کو ملے مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ................... 


Comments

Popular posts from this blog

شفا اللہ روکھڑی

روف کلاسرا